نئی دہلی ،31؍مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )کانگریس کی سیاسی کارروائی صرف مکمل بھی نہیں ہوئی کہ بہار میں اقتدار کی خواہش میں بیٹھے آر جے ڈی پارٹی کے لیڈر رگھونش پرساد نے بھی نتیش کمار کو بی جے پی سے الگ کرنے کی پیترہ بازی شروع کر دی۔رگھوش پرساد کے بیان سے ایک بات تو یقینی ہو گئی کہ بغیر نتیش کمار کے بہار میں آر جے ڈی کا چل پانا مشکل ہے۔براہ راست تو نہیں لیکن بالواسطہ طور پر رگھونش پرساد نے نتیش کمار سے معافی مانگنے جیسی بات ہے۔آر جے ڈی کی جانب سے اس طرح کی تجویز کسی بہت بڑے مفاد کی تکمیل کی سمت میں اشارہ کر رہا ہے۔سشیل مودی جن کی وجہ سے لالو کا پورا خاندان بدعنوانی کے جال میں پھنس چکا ہے، اس سے بچنے کی کوئی گنجائش نہیں دکھائی دے رہی ہے۔آر جے ڈی کے بڑبولے لیڈر رگھونش پرساد سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے وزیر اعلی نتیش کمار کو نصیحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیکولر لیڈر ہیں اور اب ہمارا مشورہ ہے کہ وہ پھر اتحاد میں واپس آ جائیں۔ سیاست میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہوتا۔غیر بی جے پی پارٹی متحد ہیں ایسے میں نتیش کمار کو بھی باہمی تعصب کوبھلا کرواپس آ جانا چاہئے۔